پا[6]
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - مرکبات میں و باقی رہنے والا، کے معنی میں بطور جز دوم مستعمل جیسے: دیرپا، کم پا۔ نہیں دیرپا کوئی تعمیر عالم کہ مضبوط اس کا مسالا نہیں ہے ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ٢٢٤ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'پائیدن' سے اسم فاعل 'پا' اردو میں بطور لاحقہ تراکیب میں صفت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ١٨٣٨ء کو "ستہ شمسیہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: پائیدن
جنس: مذکر